History In English

Muhammad Bin Qasim History in Urdu

عالم اسلام کا یہ عظیم جرنیل 75ھ / 95-694۰ء میں طائف کے مقام پر پیدا ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب عبد الملک بن مروان خلیفۃ المسلمین تھے۔ انہوں نے حجاج بن یوسف کو ۷۵ ھ میں مشرقی ممالک کا حاکم اعلی مقرر کر دیا تھا۔ حجاج بن یوسف نے اپنے بھائی قاسم بن محمد یعنی محمد بن قاسم کے والد کو بصرہ کا گورنر نامزد کیا، خیال ہے کہ اس کے بعد محمد بن قاسم کی تربیت بصرہ ہی میں ہوئی۔ آپ کی کنیت ابوالبہار تھی کیونکہ آپ ایک خوشبو دار پھول بہارالبر کو بہت پسند کرتے تھے۔ اس زمانے میں بصرہ ایک بڑا علمی، ثقافتی اور عسکری مرکز تھا۔ صحابی رسول حضرت انس بن مالک اس وقت بقید حیات تھے ۔ اس کے علاوہ امام حسن بصری اور امام محمد بن سیرین بھی اپنے علم سے لوگوں کو فیضیاب کر رہے تھے۔

قبیلہ نبو ثقیف سے تعلق رکھنے والے اس بہادر سپوت کے سر سے والد کا سایہ بچپن ہی میں اٹھ گیا اور اس کی تربیت کی تمام ذمہ داری والدہ  پر آپڑی۔ والدہ نے اپنے پیارے بچے کی بہت اچھی تربیت کی اور اسے دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ مجاہدانہ اوصاف سے مزین کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ محمد نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو فوج کی ملازمت اختیار کی جہاں قابل اور تجربہ کار فوجی افسران کے زیر تربیت ان کی صلاحیتیں اور نکھر کر سامنے آئیں۔ اس کمسن نوجوان نے لڑائی کے تمام مروجہ طریقوں پر اتنی عمدگی سے اور اس قدر جلد دسترس حاصل کر لی کہ صرف ۱۴ سال کی عمر میں اسے فوج کے اعلی عہدے کے لیے موزوں قرار دے دیا گیا۔ سنہ 90ھ/709ہ میں ایران میں کردوں نے بغاوت کر دی، حجاج بن یوسف نے باغی گردوں کے خلاف ایک فوج روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس فوج کی قیادت کے لیے اس کی نگاہ اپنے مرحوم بھائی قاسم کے بیٹے محمد پر پڑی جن کی عمر کو کہ صرف پندرہ سال تھی لیکن اچھی صحت اور بچپن ہی سے فنون حرب کی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے کہیں بڑے دکھائی دیتے تھے۔ محمد اپنی ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کا بار با اظہار کر چکے تھے۔ انہوں نے فوج کی کمان سنبھالی اور ایران پہنچ کر کردوں کو شکست فاش دی۔ پھر اصطخر کو تسخیر کیا اور جر جان کی طرف بڑھے۔ اس کے بعد ایک خصوصی نقشہ تیار کروا کے شہر شیراز کی بنیاد ڈالی اور اسے فارس کا پایہ تخت بنایا۔ شیر از اس سے قبل ایک معمولی چھاؤنی تھی۔

محمد بن قاسم نے شیر از میں بے حد عمدگی سے امور مملکت انجام دئیے۔ سترہ سال کی عمر میں انہیں شیر از کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ محمد بن قاسم کو اسلام سے بڑی محبت تھی۔ اسلام کا پیغام عام کرنے کی جو تڑپ اس صالح نوجوان کے دل میں جا گزیں تھی اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ محمد بن قاسم کو جو تنخواہ ملتی، اس کا بڑا حصہ وہ اسلام کی دعوت پھیلانے پر صرف کر دیا کرتے تھے۔ قدرت نے اس نوجوان سالار کی زبان میں ایسی مٹھاس بھر دی تھی کہ جب وہ لوگوں کے سامنے تقریر کرتے تو لوگ دم بخور ہو کر سنتے رہ جاتے۔ محمد بن قاسم کو حجاج کی طرف سے شہر ’’رے‘ پر فوج کشی کا حکم مل چکا تھا اچانک حجاج بن یوسف کا ایک اور حکم نامہ انہیں موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ رے کی بجاۓ سند ھ جاؤ اور اس فوج کا انتظار کرو ۔ جسے میں تمہارے لیے خشکی کے راستے بھیج رہا ہوں۔ سندھ پر حملہ کرنے کا یہ فیصلہ دراصل اس مسلمان لڑکی کی پکار کا جواب تھا جس نے سندھ کے ساحل پر لٹیروں کے ہاتھوں اپنے جہاز کو لٹتے دیکھ کر حجاج کو مدد کے لیے پکارا تھا۔ یہ بحری قافلہ سراندیپ (موجودہ سری لنکا) کے بادشاہ نے خلیفہ وقت ولید بن عبد الملک کے خدمت میں تحائف کے ساتھ بھیجا تھا۔ قافلے میں چند مسلمان عورتیں اور مسلمان تاجروں کی بیوائیں اور بچے شامل تھے۔ یہ جہاز گرداب میں گھر کر تباہ ہوئے اور دبیل کی طرف جا نکلے جہاں بحری قزاقوں نے انہیں لوٹ لیا۔ ان میں قید کی جانے والی عورتوں نے حجاج کا نام لے کردہائی دی۔قافلے کے چند مسافر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے- انہوں نے عراق پہنچ کر حجاج بن یوسف کو اس واقعہ سے آگاہ کیا۔ حجاج بن یوسف نے سندھ کے راجا داہر کو ایک خط لکھا کہ آپ نے جن مسلمانوں کو قید کر لیا ہے ان کو رہا کر دیں اور لوٹا ہوا مال و اسباب واپس کر دیں۔ راجا داہر نے جواب میں لکھا کہ یہ کام تو بحری ڈاکوؤں کا ہے جن پر ہمارا بس نہیں چلتا۔ داہر کا جواب آنے پر حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے سندھ پر حملے کی اجازت طلب کی۔ اجازت نہ ملی تو حجاج نے دوبارہ دمشق پیغام بھیجا کہ میرا خیال ہے کہ کثیر اخراجات کی وجہ سے سندھ پر حملے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ، میں وعدہ کر تا ہوں کہ جور قم سرکاری خزانے سے صرف ہوگی اس سے دگنی رقم خزانے میں داخل کروں گا۔ اس پر خلیفہ وقت نے حملے کی اجازت دے دی۔

“عرب قافلہ جسے راجہ داہر کے سپاہیوں نے لُوٹ لیا تھا”

آج سے ۱۳ سو سال قبل سندھ چھوٹا سا صوبہ نہ تھا بلکہ سندھ کے عام کا اطلاق ایک وسیع علاقے پر ہوتا تھا جو مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحیرہ عرب اور گجرات تک، مشرق میں مالوہ کے وسط اور راجپوتانہ تک، اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب کے اندر تک پھیلا ہوا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی حکومت مکران تک وسیع ہو چکی تھی۔ سنہ 75 ھ میں حجاج بن یوسف کو مشرقی ممالک کا حاکم اعلی بناۓ جانے سے قبل گو کہ سندھ کے سرحدی علاقوں پر مسلمانوں نے اِکا دُکا حملے کیے تھے لیکن ان کا مقصد ڈاکوؤں کی سرکوبی تھا۔ با قاعدہ فوج کشی نہیں کی گئی تھی۔ حجاج بن یوسف نے سعید بن اسلم کو مکران اور سرحد کا حاکم مقرر کیا۔ اس زمانے میں ایک قبیلہ بنی آ سار اپنے سردار محمد علاقی (عقی) کے ساتھ عمان کے راستے سندھ میں آکر آباد ہو گیا۔ اس نے سندھ کے راجا داہر کی ایک لڑائی میں مدد کی۔ راجا نے سرحد مکر ان کا ایک علاقہ اس قبیلے کو دے دیا۔ سعید بن اسلم نے کسی جرم پر اس قبیلے کے ایک فرد کو سزائے موت دے دی۔ اس پر قبیلے والوں نے سعید کو قتل کر کے مکر ان پر قبضہ کر لیا۔ حجاج بن یوسف کو یہ خبر ملی تو وہ بہت غضب ناک ہوۓ اور انہوں نے اپنے ایک افسر مجاعہ بن سحر کو مکران بھیجا۔ علاقی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکر ان چھوڑ کر سندھ بھاگ گئے جہاں راجا داہر نے ان کو پناہ دے دیا۔ راجا داہر نے حکومت اسلامیہ کے باغی کو پناہ دی تھی، اس وجہ سے اس کے خلاف کاروائی مسلمانوں کے لیے ضروری ہو گئی۔

اسی اثنا میں مسلمان عورتوں اور بچوں کو لے جانے والے تجارتی جہاز سندھ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں ٹوٹ جانے کا واقعہ پیش آیا، اور راجا داہر نے اپنی قوت کے گھمنڈ میں مسلمان عورتوں اور بچوں اور قیمتی سامان کو واپس نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا وہیں اسے کیفِرِ کردار تک پہنچانے کا باعث بن گیا۔ حجاج بن یوسف نے پہلے عبد اللہ بن بنہان کی قیادت میں ایک فوج سندھ کے ساحلی شہر ریل بھیجی لیکن عبد اللہ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے پھر  طہفہ کو جو عمان میں تھے، حکم ملا کہ مکران کے گورنر سے تین ہزار سپاہی لے کر دیبل پر حملہ کریں لیکن بد میں نے بھی لڑائی میں شہادت کا مرتبہ پایا۔ حجاج نے اپنے دو سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد فیصلہ کیا کہ سندھ پر منظم حملے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شامی لشکر سے چھ ہزار پیادے سپاہی اور چھ ہزار سوار لیے۔ بوجھ لادنے کے لیے کئی ہزار اونٹ فراہم کیے۔ ضرورت کی ہر چیز ساتھ کر دی حتی کہ سوئی دھا گہ تک دیا۔ جب سندھ میں سپاہیوں کا ہاضمہ خراب ہوا اس وقت سر کہ فراہم کیا گیا۔ حجاج نے روئی کو سر کہ میں بھگو کر سائے میں خشک کروایا اور پھر اس روئی کے گٹھے جہازوں کے ذریعہ روانہ کیے تا کہ جب بھی سر کہ کی ضرورت ہو تو روئی تر کر کے اسے چھان لیا جاۓ۔ فوجی ساز و سامان دیگر کئی جہازوں پر لاد کر دیبل روانہ کیا۔ اس میں کئی منجنیقیں بھی تھیں، ایک بہت بڑی منجیق بھی تھی جسے ”عروس“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ منجنیق اتنی بڑی تھی کہ اسے حرکت میں لانے کے لیے پانچ سو افراد کی ضرورت ہوتی تھی۔

“عروس نامی منجنیق جس نے سندھ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا”

حجاج بن یوسف نے سندھ پر فوج کشی کے لیے اب نوجوان محمد بن قاسم کا انتخاب کیا تھا۔ یہاں سے محمد بن قاسم کی زندگی کا ایک نیا باب وا ہو تا ہے۔ یہ باب جہاد فی سبیل اللہ سے عبارت ہے، فتوحات اور معرکہ آرائیوں سے معمور ہے، مفتوح باشروں کے تشکر آمیز آنسوؤں سے لبریز ہے۔ وہی باب جس نے محمد بن قاسم کو فاتح سندھ کا لقب عطا کیا۔ در حقیقت وہ محض سندھ کے فاتح نہیں تھے بلکہ سندھ کے تمام باشندوں کے دلوں کے فاتح تھے۔ انہوں نے مفتوح عوام کے دلوں کو اپنے حسن سلوک سے تسخیر کر ڈالا اور صرف ساڑھے تین سال کے عرصے میں عوام کو اپنا اس حد تک گر دیدہ بنا ڈالا کہ لوگوں نے ان کامجسمہ بنا کر عقیدت اور احترام سے اپنے پاس رکھ لیا۔ اتنی محبت، اتنی عزت اس کو ملتی ہے جسے دلوں کو فتح کرنے کا ڈھنگ آتا ہو۔حجاج بن یوسف نے جہم بن زحر کی قیادت میں جو لشکر روانہ کیا تھا۔ وہ شیر از پہنچ چکا تھا، یہاں سے محمد بن قاسم اس لشکر کولے کر خشکی کے راستے مکر ان پہنچے۔ یہاں سے ار من بیلہ کی طرف روانہ ہوئے، قنزپور ( پنجگور ) پر حملہ کیا اور فتح نے محمد بن قاسم کے قدم چومے۔  اس کے بعد ار من بیلہ فتح ہوا۔ 92ھ  میں محمد بن قاسم کی فوج دیبل پہنچ چکی تھی۔ سر زمین سندھ پر سب سے پہلے نماز جمعہ اسی جگہ ادا کی گئی۔ اسی دن بحری جہاز کے ذریعے فوجی سامان بھی پہنچ گیا۔ دیبل مغربی سندھ کا نہایت پر انا شہر تھا۔ ایران، عراق اور افریقہ کے بحری جہاز آکر اسی بندر گاہ میں آیا کرتے تھے۔ یہ بندر گاہ تقریباً چھ سو برس تک سندھ کی اہم بندر گاہ رہی اس کے بعد دسویں صدی عیسوی میں ایک نئی بندر گاہ ”لوہارانی بندر“ کے قیام کے باعث دیبل کی اہمیت کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوگئی، خیال ہے کہ سندھ میں موجود بھنبھور کے کھنڈرات  کسی زمانے میں دیبل کی بندر گاہ ہواکرتے تھے۔دیبل کی آبادی بہت زیادہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک شاندار دیول (مندر) تھا جس کی وجہ سے اس شہر کا نام دیبل پڑ گیا تھا۔ مندر کا گنبد بہت بڑا اور بلند تھا اور دور سے نظر آتا تھا۔ گنبد پر بہت لمبے بانس پر ریشم  کا سبز پرچم لہرا رہا تھا۔ شہر کے گرد مضبوط فصیل بنی ہوئی تھی۔

محمد بن قاسم کے دیبل پہنچتے ہی شہر والے فصیل کے دروازے بند کر کے محصور ہو گئے۔ محمد بن قاسم کے حکم پر شہر کی چاروں اطراف خندقیں کھود دی گئیں اور جگہ جگہ مورچے قائم کر لیے گئے۔ جنگ شروع ہوئی۔ فصیل کئی مقامات پر منہدم ہو چکی تھی لیکن شہر فتح نہیں ہو رہا تھا، ایک دن ایک مفرور کسی طرح شہر سے نکل کر محمد بن قاسم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نجوم کی کتابوں سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ کو مسلمان فتح کر لیں گے لیکن تب تک جب تک کہ مندر پر جھنڈالہرارہا ہے اس وقت تک اس شہر کی فتح ممکن نہیں۔ آپ کوشش کریں کہ مندر پر لہرانے والا پرچم گرادیا جاۓ ۔ حجاج کو یہ اطلاع ملی تو انہوں نے پیغام بھجوایا کہ انہیں مندر اور اس کے پرچم کی اونچائی سے آگاہ کیا جائے۔ اطلاعات ملنے پر انہوں نے ہدایات بھجوائیں کہ منجنیق کو کس زاویہ پراستعمال کیا جاۓ۔۔ محمد بن قاسم نے منجنیق چلانے کے ماہر جعونہ سلمٰی کو حکم دیا کہ مندر کے گنبد پر لہرانے والے پرچم کو نشانہ بنائیں۔ دیبل پہنچنے کے نویں روز طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سنگ باری شروع ہو چکی تھی۔ منجقیق نے اپنا کام کر دکھایا اور گنبد ٹوٹ گیا۔ گنبد کا ٹوٹا تھا کہ دشمن کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ شہر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گیا۔ محمد بن قاسم کی فوج نے زبر دست یورش کر کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ شہر پر قبضے کے بعد محمد بن قاسم نے زمین کے قطعات مسلمانوں میں تقسیم کیے۔ حمید بن وداع کو شہر کا افسر اعلیٰ مقرر کیا اور شہر میں ایک خوب صورت مسجد تعمیر کروائی، یہ سندھ میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد تھی۔ محمد بن قاسم نے جنگوں میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ سرکاری خزانے میں داخل کیا۔ ارمن بیلہ کا مالِ غنیمت فوجیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

“سرزمینِ سندھ پر قائم ہونے والی پہلی اسلامی مسجد کے کھنڈرات”

دیبل فتح ہونے کی خبر راجا داہر کو ملی تو اس نے اپنے بیٹے جے سیہ/سنہہ کو حکم دیا کہ دریائے سندھ عبور کر کے برہمن آباد چلا جائے۔ برہمن آباد ضلع سانگھڑ کے اس علاقے میں تھا جہاں اب منصورہ واقع ہے۔ خیال ہے کہ اس شہر کے کھنڈرات آج بھی تحصیل سنجھورو کے قریب پاۓ جاتے ہیں۔ جے سنہہ اس وقت نیران (اب حیدر آباد) کا حکمران تھا۔ ادھر محمد بن قاسم نیرون جانے کے لیے سلیم کی طرف روانہ ہوئے۔ سلیم  نیرون کورٹ کی طرف بڑھے جو دیبل سے تقریبا 75 میل دور ہے۔ ساتویں دن نیرون کوٹ کے باہر بروری کے میدان میں پڑاؤ ڈالا، گرمی کا موسم تھا، پانی کا میلوں دور تک پتا نہ تھا۔  محمد بن قاسم نے فوج کو نماز استقا کا حکم دے دیا۔ نماز کے بعد محمد بن قاسم نے دعا مانگی ”اے  پریشان لوگوں کے رہبر ، اے فریاد کرنے والوں کی فریاد سننے والے ، میری دعا کو سن۔“ اللہ نے مجاہدین کی دعاؤں کو قبول فرمایا۔ رحمت خداوندی جوش میں آئی، بادل گھر کر آۓ اور موسلا دھار بارش سے ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ بروری سے اسلامی فوج نیرون پہنچی۔ وہاں کے بدھ مذہب کے پیرو کار حاکم نے پہلے ہی حجاج کو اطاعت کی یقین دہانی کرادی تھی، انہوں نے فاتح سندھ اور ان کے لشکر کی خوب آؤ بھگت کی۔ تحائف دیئے ۔نیرون میں بھی محمد بن قاسم نے ایک مسجد تعمیر کروائی۔ یہاں سے 90 میل دور ”بہر ج“ پہنچے اور وہاں سے  سیوستان روانہ ہوئے، جسے آج کل سیہون کہا جاتا ہے۔ یہ سندھ کا مشہور شہر ہے۔ سیوستان دالے قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ ایک ہفتے تک جنگ ہوتی رہی، یہاں تک کہ سیوستان کی فوج لڑائی سے جی چرانے لگی۔ سیوستان پر داہر کا بھتیجا بجراد حکمراں تھا، اس نے فوج کے تیور دیکھے تورات کے اندھیرے میں قلعے کے شالی دروازے سے نکل کر فرار ہو گیا۔ محمد بن قاسم نے سیوستان میں نئے انتظامات کیے اور نئے حاکم مقرر کیے۔ سیوستان سے فرار ہو کر بھجراد نے سیسم کے قلعے میں پناولی تھی۔ محمد بن قاسم نے اس قلعے کو بھی نشانہ بنایا، آخر بجراد اور اس کے سردار لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اب محمد بن قاسم مغربی سندھ کے تمام علاقے پر حکمراں تھے اور علاقے کے تمام سردار آپ کے حسن اخلاق کے اسیر ہو چکے تھے۔

سیم میں محمد بن قاسم کو حجاج کا خط ملا کہ نیرون لوٹ جاؤ اور دریاۓ سندھ عبور کر کے راجا داہر سے مقابلہ کرو۔ محمد بن قاسم نیرون لوٹ گئے اور محرم 93ھ / میں قلعہ اشبہار (خیال ہے کہ میں قلعہ ٹنڈو محمد خان کے قریب پہاڑیوں پر واقع تھا) پہنچے۔ ایک ہفتے کے محاصرے کے بعد قلعہ والوں نے امان طلب کی۔ یہاں کے انتظامات کر کے محمد بن قاسم دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر راور کی حدود میں پہنچے۔ غالباً یہی شہر ”بڑی“ کہلایا جو دو تین صدی قبل برباد ہو چکا ہے۔ یہ شہر موجودہ بدین کے قریب تھا۔ راجا داہر کو محمد بن قاسم کی فوج کے دریا تک پہنچ جانے کی اطلاع ملی تو وہ بھی ہاتھی پر سوار ہو کر نکل آیا۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان دریا عبور نہ کر سکیں اور اگر کوشش کریں تو ان پر زبردست حملہ کیا جاۓ۔ راجا نے اپنے سپاہیوں کو ضروری ہدایات دیں اور واپس جا کر اپنے بیٹے جے سنبہ کو محمد بن قاسم کے لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج دے کر روانہ کیا۔ محمد بن قاسم کی فوج کو حجم اور کرہل ( ٹھٹھہ کا نواحی علاقہ) میں تقریبا پچاس دن رہنا پڑا۔ اس عرصے میں خوراک کی کمی ہو گئی اورگھوڑے بیمار ہو کر مرنے لگے۔ محمد بن قاسم نے حجاج بن یوسف کو فوراً پیغام روانہ کیا۔ جواب آیا کہ دو ہزار گھوڑے بھیجے جا رہے ہیں اور اسلامی فوج کو کشتیوں کا پل بنا کر دریا عبور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، ساتھ ہی محمد بن قاسم کے کہنے پر حجاج نے سرکہ بھی روانہ کیا۔ اب محمد بن نے دریا عبور کرنے کی تدبیروں پر کام شروع کر دیا۔ کشتیاں حاصل کی گئیں انہیں ایک دوسرے سے باندھ دیا گیا دریا عبور کرنے کے لیے اس مقام کا انتخاب کیا گیا جہاں دریا کا پاٹ تنگ تھا اور پانی کی روانی بہت تیز تھی۔ کشتیوں کے ایک سرے کو مغربی کنارے پر باندھ دیا گیا اور دوسرا سرا دریا میں چھوڑ دیا گیا جو خود بخود مشرقی کنارے پر پہنچ گیا جہاں سب سے اگلی کشتی پر موجود سپاہیوں نے دشمن کی مخالفت کے باوجود کشتی کو رسوں اور کھونٹوں کے ذریعہ مشرقی کنارے پر باندھ دیا۔ اس طرح محمد بن قاسم کی پوری فوج کشتیوں کے اس میل کے ذریعے دریا کے دوسرے کنارے پر اتر گئی۔ داہر کو اطلاع مل چکی تھی کہ مسلمان دریا عبور کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں بلکہ انہوں نے رادر کے قریب ایک گاؤں رجپور پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اب اس کے پاس لڑائی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ بھی اپنالاؤ لشکر لے کر اسلامی فوج کے مقابل پہنچ گیا۔ دونوں فوجوں کےدرمیان ایک جھیل حائل تھی۔

“اسلامی لشکر  پیش قدمی کرتے ہوئے”

اس اثنا میں رمضان کا مبارک مہینہ برکتیں اور سعادتیں لیے آ پہنچا۔ یکم رمضان المبارک 931ھ /بمطابق جون 712ء کو راجا داہر اور محمد بن قاسم فوجوں کے درمیان اس فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا جس کے خاتمے کے ساتھ ہی سندھ میں جبر و استبداد کے بت پاش پاش ہو گئے اور یہ سرزمین اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی۔ یہ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ باطل قوتیں بظاہر زیادہ طاقت ور تھیں۔ راجا داہر کے پاس دس ہزار سوار اور تیس ہزار پیدل سپاہی تھے، 100 جنگی ہاتھی تھے اور اس کے پاس جنگی ساز و سامان کی کوئی کمی نہ تھی۔ اس کے مقابلے پر حق کے لشکر کی شان یہ تھی کہ وہ صرف بارہ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔ نو دن تک فریقین میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ رمضان المبارک کو لڑائی میں شدت آگئی۔ راجا داہر نے یہ دیکھ کر ہاتھی میدان میں اتارے لیکن مسلمان سپاہیوں نے چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم ہو کر ہاتھیوں پر ہلہ بول دیا۔ ہاتھی اس یلغار بوکھلا کر الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوئے۔ تھوڑی دیر میں سورج غروب ہو گیااور لڑائی تھم گئی۔دس رمضان المبارک کی سحر طلوع ہوئی تو راجا داہر اپنے وسیع لشکر کولے آگے بڑھا ادھر محمد بن قاسم نے اپنی فوج کو منظم کیا، ہدایات دیں اور ساری فوج پانچ صفوں میں تقسیم ہو گئی۔ امیر لشکر محمد بن قاسم نے اس کے بعد اپنے مجاہدین سے کہا کہ جس شخص کو جہاں مقرر کیا گیا ہے وہ اس جگہ رہ کر لڑے۔ “خوب یاد رکھو کہ اللہ کی فتح و نصرت نیک لوگوں اور پرہیز گاروں کو حاصل ہوتی ہے۔ ہمیشہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہو اور اللہ کا ذکر کرتے رہو۔”

جنگ کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں دونوں جانب سے دستے بھیجے گئے، پھر با قاعدہ لڑائی شروع ہوگئی۔ مسلمان اس جوش اور جذبے سے دشمن کی صفوں پر ٹوٹ کر گرے کہ اس کی صفیں تر بتر ہو گئیں۔ محمد بن قاسم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر حملے کا حکم دیا۔ نوجوان سپہ سالار کوآواز نے اسلامی فوج میں نئی روح پھونک دی۔ تیروں کی بارش ہونے لگی۔ منجنیقیں پتھر برسانے لگیں۔ تلواروں کی جھنکار سے میدان جنگ گونج اٹھا۔ ایک مسلمان تیر انداز نے راجا داہر کی سواری کو نشانہ بنایا۔ مسلمان فوج آگ لگانے والے تیر استعمال کر رہی تھی۔ تیر سیدھا راجا کی سواری میں لگا اور ہاتھی پر راجا کے بیٹھنے کے لیے جو خوب صورت نشست گاہ بنائی گئی تھی، اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ہاتھی اس صورتحال سے حواس باختہ ہو کر قریبی جھیل میں جا گھسا اور بیٹھ گیا۔ مہاوت نے بڑی مشکل سے ہاتھی کو کھڑے ہونے پر آمادہ کیا۔ راجا داہر اب مجبور ہو کر پیدل میدان میں کود پڑا۔ اس کے وفادار ساتھی اس کے اطراف موجود تھے لیکن داہر کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ ادھر آفتاب غروب ہوا ادھر راجا داہر کے اقتدار کا سورج بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ ایک مسلمان سپاہی نے اس کے سر پر تلوار کا بھر پور وار کیا۔ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی گردن تک اتر گئی۔ ایک مغرور اور خود پسند راجا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ راجا داہر کے مرتے ہی برہمنوں نے اس کی لاش کو کیچڑ میں چھپا دیا۔ ادھر اسلامی لشکر راور کے قلعے میں داخل ہو گیا۔ بعد میں برہمنوں کی نشاندہی پر راجا داہر کی لاش برآمد کر لی گئی۔ راور فتح کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے فوجیوں کو تو سزاۓ موت دے دی لیکن پرامن شہریوں سے کوئی تعرض نہ کیا بلکہ انہیں زیادہ سہولت کے ساتھ شہر میں آباد کر دیا۔ اس فتح کے نتیجے میں بہت سارا مالِ غنیمت حاصل ہوا جس کا پانچواں حصہ محمد بن قاسم نے حجاج یوسف کو روانہ کردیا-

راجا داہر کے بیٹے جے سنہہ کے دل میں باپ کے قتل کے انتقام کی آگ دہک رہی تھی۔ وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور برہمن آباد پہنچ کر چاروں طرف سے فوج اکٹھی کر رہا تھا۔ شوال93ھ / جولائی712ء کے مہینے میں محمد بن قاسم کی فوج نے برہمن آباد کی طرف پیش قدمی کی۔راستے کے قلعوں کو فتح کیا، اسی دوران میں محمد بن قاسم نے ہندوستان کے راجاؤں اور دیگر حکمرانوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں قبول اسلام کی دعوت دی۔ برہمن آباد کے مشرقی کنارے پر پڑاؤ ڈالنے کے بعد محمد بن قاسم نے جے سنہہ کو پیغام بھیجا کہ یا تو اسلام قبول کرویا ہمارے مطیع ہو کر جزیہ دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جے سنہہ برہمن آباد میں فوج کو تیار کر کے خود چنیسر کی طرف فرار ہو چکا تھا۔ فوج نے لڑنے پر آمادگی ظاہر کی تو رجب 94ھ کی پہلی تاریخ  کو برہمن آباد کی جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ چھ ماہ تک جاری رہی۔ دشمن کی فوج قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئی تھی۔ تاریخی اوراق کے مطابق داہر کی سابقہ ملکہ اور اب ابن قاسم کی بیوی نے برہمن آباد والوں کو سمجھایا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ برہمن آباد کے باشندے تنگ آگئے تھے انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ انہیں امان دے دی جائے۔

بر من آباد کی فتح کے بعد فاتحِ سندھ نے اعلان کیا کہ جو لوگ خوشی سے مسلمان ہو گئے ہیں ان کے حقوق دیگر مسلمان کے برابر ہوں گے، جو لوگ اپنے مذہب پر قائم رہیں گے انہیں جزیہ دینا پڑے گا اس پر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔ محمد بن قاسم نے مندروں کے لیے قائم جائیدادوں میں کوئی دخل نہ دیا۔ جنگ میں جن تاجروں، کسانوں اور دیگر شہریوں کو نقصان پہنچا تھا، ان کی مالی امداد کی۔ مال گزاری وصول کرنے کے لیے ان پر براہمنوں کو مقرر کر دیا جو پہلے بھی یہی کام کرتے تھے۔ انہیں تاکید کی کہ رعایا پر ظلم و زیادتی نہ ہونے پاۓ۔ اس قسم کے اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کل تک جو براہمن مسلمانوں کے دشمن تھے آج وہ گاؤں گاؤں جا کر لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ اگر ہم عربوں کی اطاعت نہ کریں گے، تو نقصان میں رہیں گے۔ براہمن آباد کے داخلی انتظام کے لیے محمد بن قاسم نے چار معزز تاجروں کی ایک کمیٹی بنائی اور دیوانی عدالت اس کے سپرد کر دی۔انتظامات سے فارغ ہو کر 3 محرم 95ھ / 28 ستمبر 713ء کو محمد بن قاسم منہل پہنچے، وہاں بدھ مت کے ماننے والوں نے اپنی اطاعت کا یقین دلایا۔ یہاں سے بھراور ، سمہ قوم کے علاقے لوہانہ اور پھر سہتہ قوم کے علاقے میں پہنچے۔ اب ان کا ارادہ ارور پر فوج کشی کا تھا جو دارالحکومت تھا اور جہاں راجا داہر کا ایک اور بیٹا گوپی حکمران تھا۔ ( اروریا الور نامی شہر روہڑی سے تقریبا تین میل جنوب مشرق میں دریا کی مغربی جانب واقع تھا۔ اس قدیم شہر کے آثار اب بھی موجود ہیں)۔ محمد بن قاسم نے پروڈ اور بغرور (موجودہ بھکر) کے انتظامات کیے، پھر قلعہ باتیہ پہنچے۔ وہاں راجا داہر کا چچازاد بھائی ککسہ حکمران تھا۔ اس نے اطاعت قبول کی۔ یہاں سے فاتح سندھ نے دریاۓ بیاس کو عبور کر کے قلعہ اسکندہ فتح کیا اس کے بعد سکّہ پر قبضہ کیا سکہ ملتان سے ملحقہ شہر تھا)۔ سکّہ سے محمد بن قاسم دریاۓ راوی عبور کر کے ملتان پر حملہ آور ہوۓ۔ یہاں کی فوج مقابلے پر اتر آئی۔ دوماہ تک جنگ جاری رہی آخر قلعے کی مضبوط دیوار منجنیقوں کی مارنہ سہ سکی اور ٹوٹ گئی جس کے بعد قلعہ فتح ہو گیا-

فتح ملتان کے بعد محمد بن قاسم نے شہر میں ایک شاندار مسجد تعمیر کروائی۔ اطراف کے علاقوں کے انتظامات کیے ، اس کے بعد فاتح سندھ قنوج پر فوج کشی کرنے والے تھے کہ شوال 95ھ /بمطابق جون 714ء میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا۔ محمد بن قاسم نے مشرقی ممالک کے نئے حاکم اعلی کے تقرر تک قنوج پر فوج کشی کا ارادہ ملتوی کر دیا اور بیلمان ( بیھلمان) اور کیرج کے علاقوں کو فتح کر لیا۔ حجاج بن یوسف کی وفات کے آٹھ ماہ بعد جمادی الثانی 96 / فروری 715ء میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد سلیمان بن عبد الملک خلیفہ بنے۔ انہوں نے یزید بن مہلب کو مشرقی ممالک کا حاکم اعلی مقرر کیا جو حجاج کے مخالف تھے۔ ان کے دور میں محمد بن قاسم کو سندھ سے واپس عراق بلالیا گیا اور واسط کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔

نوجوان محمد بن قاسم نے سندھ کے وسیع و عریض علاقے پر صرف ساڑھے تین سال حکومت کی لیکن یہ ان کا غیر معمولی تدبر اور خداداد انتظامی صلاحیت تھی جس کی بدولت انہوں نے پورے علاقے کو عدل و انصاف، خوشحالی اور مسرت و اطمینان کی تصویر بنا دیا۔ انہوں نے سندھ میں جو علاقے فتح کیے، عموماً ان کے قدیم حاکموں سے اطاعت کا اقرار لے کر انہی کو حکومت پر بحال رکھا۔ صرف انتظامات بہتر بنانے اور نظام انصاف کو تقویت دینے کے لیے ان کے ساتھ مسلمان افسران بھی مقرر کیے جاتے تھے۔ پولیس اور فوج میں زیادہ تر سندھ کے نو مسلم باشندے تھے۔ مالیات کی تحصیل کا با قاعدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ جو قومیں مسلمان ہوئیں، ان کی زمینوں پر عشر وصول کیا جا تا تھا۔ لگان اور خراج سے جو رقم حاصل ہوتی تھی اس کا بڑا حصہ ملک میں رفاہِ عامہ کے کاموں پر صرف کیا جاتا تھا۔ مال گزاری کی وصولی، حساب کتاب وغیرہ براہمنوں کے ذمے تھا۔ کسانوں کو طرح طرح کی سہولتیں دیں۔ جن کاشتکاروں کے یہاں پیداوار کم تھی ان پر سرکاری لگان معاف کر دیا گیا۔ معاشرے میں بعض طبقوں کو پست اور ذلیل سمجھا جاتا تھا، محمد بن قاسم نے ان طبقوں کو عزت اور احترام دلوایا۔محمد بن قاسم نے انصاف کو سر بلند کرنے کے لیے تمام شہروں میں قاضیوں کا تقرر کیا۔ قاضی حضرات عام طور پر خطابت اور قضا دونوں عہدے سنبھالتے تھے۔ انہوں نے ہر علاقے میں مساجد تعمیر کر وائیں، یہ مساجد علوم کے مراکز کی حیثیت اختیار کر گئیں، چنانچہ آنے والے دور میں دیبل علمِ حدیث کا ایک بڑا مرکز بنا۔ اس کے علاوہ منصورہ ، ملتان اور دیگر شہروں میں بھی علم کے بڑے مراکز قائم ہوۓ۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں کہ ایک نو عمر سپہ سالار نے صرف ساڑھے تین سال کے عرصے میں ایک ایسی قوم کو اپنا مطیع ہی نہیں بلکہ گرویدہ بنا لیا جو اس کی کٹر دشمن تھی۔ یہ محمد بن قاسم کا مثالی حسنِ سلوک، ان کی رواداری، نرم مزاجی اور رحم دلی تھی جس کی بدولت اہلِ سندھ اپنے نوجوان فرمانروا سے پرستش کی حد تک محبت کرنے لگے۔ یہ محبت آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلیں بھی اپنے محسن محمد بن قاسم کو یادرکھیں گی۔

top20series

Watch and Download Turkish Historic Series in English with Urdu Subtitles | History | Kids Turkish Series | Top20Series Always Provided Premium Content
Back to top button
x